خوش آمدید

November 5th, 2008

میرے  ساقی  نے  عطا  کی   ہے   مئے  بے  دُردوصاف
رنگ جو  کچھ  دیکھتے  ہو  میرے   پیمانے  کا  ہے
               ———————–
ہے   تابعِ    تقدیر   تو   کافر   ہے   مسلمان 
مومن   ہے   تو   وہ   آپ   ہے  تقدیرِ  الہٰی

————————- 
تو  اپنی سـر نـوشـت اب اپنے قلـم سے لـکھ
خالی رکھی ہے خامــئہ حق نے تیری  جـبـیـں  

 

مقامِ آدم    :   کائناتی قوتوں کو مسخر کر لینا۔
مقامِ مومن    :  کائناتی قوتوں کو وحیِ خداوندی کے مطابق عالمگیر انسانیت کی بہبود کی خاطر استعمال کرنا۔
علماء  :  علمی تحقیقات اور علمی تجربات کے بعد اشیائے کائنات سے صیحح  صیحح فائدہ اٹھائیں اور اس طرح تباہ کن عذابِ زندگی سے محفوظ رہیں، کارگئہ کائنات پر اس طرح غور و فکر کرنے والوں کو قرآن   ” عـلـمـاء “  کہہ کر پکارتا ہے۔
دین   :  وہ نظام جو قوانینِ خداوندی کے مطابق قائم ہو۔
عبادت  :  محکومیت اختیار کرنا۔
مسجد :  قوانینِ خداوندی کی اطاعت کرنا یا وہ مراکز جہاں ان قوانین کے نفاذ اور ان کی عملی اطاعت کے متعلق غور و تدبّر اور بحث و مشاورت ہو۔ یہ اطاعت خالصتاً  قوانینِ خداوندی کی ہو گی اس میں کسی اور کی اطاعت کو شامل کرنا شرک ہے۔
لعنت :   زندگی کی خوشگوریوں سے محروم ہو جانا۔ سعادات و برکات سے دور رہنا۔
حمد  اور حَامِدون  :   تخلیقِ ارض و سما پر غور و فکر کرنا اور ریسرچ کرنے کے بعد خالقِ فطرت کی نُدرت کاریاں اور نفع بخشیاں جب بے نقاب ہو کر سامنے آتی ہیں تو انسان بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ  ” اے ہمارے نشوونما دینے والے  ، تو نے اس سلسلئہ کائنات کو نہ بے مقصد پیدا کیا ہے اور نہ ہی تخریبی مقاصد کے لئے “    یہ ہے خدا کی حمد  ۔  اور اس طرح حمد کرنے والے کو حَامِدون کہتے ہیں۔


Next


Comments RSS

Leave a Reply

Name (required)

Email (required)

Website

Speak your mind